15 اشعار

نیست بے یار مجھ کو ہستی ہے

Neest be-yaar mujh ko hasti hai

نیست بے یار مجھ کو ہستی ہے

«نیست بے یار مجھ کو ہستی ہے» رند لکھنوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 30 سیکنڈ ہے۔

نیست بے یار مجھ کو ہستی ہےشہر ویراں اجاڑ بستی ہے

ہے جہاں پر مرا قدم بھاریہر قدم پر زمین دھنستی ہے

وہ پری ساتھ لے کے سوتا ہوںحور جس کا پلنگ کستی ہے

ہے حقیقت مجاز سے مطلوببت پرستی خدا پرستی ہے

اس کے کشتے ہیں زندۂ جاویدنیستی ان کی عین ہستی ہے

ایک بت نے دیا نہ ہم کو جواببے زبانوں کی ہند بستی ہے

خاکساروں کی ہے یہی معراجسربلندی ہماری پستی ہے

ہے کئی دن سے گھات میں صیادعندلیب آج کل میں پھنستی ہے

اس مرقع کی دیکھ تصویریںکوئی روتی ہے کوئی ہنستی ہے

منزل عشق کی ہے رہ ہموارنہ بلندی ہے یاں نہ پستی ہے

حسن دکھلا رہا ہے قدرت حقبت کو بھی ذوق خود پرستی ہے

جاں بھی دے کر ملے تو مفت سمجھہر طرح جنس حسن سستی ہے

زلف اس کی سیاہ ناگن ہےمار رکھتی ہے جس کو ڈستی ہے

کھلیں گی آنکھیں نشہ اترے گاحسن تک اوپری یہ مستی ہے

ایسے جینے پہ رندؔ خاک پڑےموت اس زندگی پہ ہنستی ہے

— رند لکھنوی