12 اشعار

چلتی رہی اس کوچے میں تلوار ہمیشہ

Chalti rahi us kooche mein talwar hamesha

چلتی رہی اس کوچے میں تلوار ہمیشہ

«چلتی رہی اس کوچے میں تلوار ہمیشہ» رند لکھنوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 31 سیکنڈ ہے۔

چلتی رہی اس کوچے میں تلوار ہمیشہلاشے ہی نکلتے رہے دو چار ہمیشہ

گل کھلتے رہیں چہچہے کرتا رہے بلبلیارب رہے آباد یہ گل زار ہمیشہ

ہم رند ہوئے شاہد مقصود سے واصلجھگڑے میں رہے کافر و دیں دار ہمیشہ

یاں تخم تمنا سے اگا کرتا ہے لالہگل کھاتے ہیں ہر فصل میں دو چار ہمیشہ

تڑپا کریں کوچے میں ترے سیکڑوں کشتےرنگیں رہے خوں سے تری تلوار ہمیشہ

دیوانے ہیں مائل ہوں اگر حور و پری کےجو دیکھ رہے ہوں ترا دیدار ہمیشہ

مجھ تشنۂ دیدار کو کس روز چھکایاپیاسا ہی رہا خوں کا وہ خونخوار ہمیشہ

مشتاقوں نے تیرے نہ لیا کوڑیوں کے مولبکتا رہا یوسف سر بازار ہمیشہ

ہے زلف مسلسل تری یا دام بلا ہےہو رہتے ہیں دو چار گرفتار ہمیشہ

کیوں کر تو مسیحا ہوا مشہور جہاں میںمرتے ہیں ترے ہاتھ سے بیمار ہمیشہ

ہنگامے نئے روز ہوا کرتے ہیں برپافتنے ہی اٹھاتی ہے وہ رفتار ہمیشہ

اے رندؔ جنوں میں بھی نہ صحرا کو گئے ہمکھایا کئے پتھر سر بازار ہمیشہ

— رند لکھنوی