14 اشعار

سائلانہ ان کے در پر جب مرا جانا ہوا

Sailana un ke dar par jab mira jaana hua

سائلانہ ان کے در پر جب مرا جانا ہوا

«سائلانہ ان کے در پر جب مرا جانا ہوا» رند لکھنوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 53 سیکنڈ ہے۔

سائلانہ ان کے در پر جب مرا جانا ہواہنس کے بولے شاہ صاحب کس طرف آنا ہوا

ٹوٹے بت مسجد بنی مسمار بت خانہ ہواجب تو اک صورت بھی تھی اب صاف ویرانہ ہوا

ہر جگہ موجود سمجھا اس کو سجدہ کر لیاخواہ مسجد خواہ گرجا خواہ بت خانہ ہوا

باز رکھتی ہے ہمیں خدمت سے ازخود رفتگیآن نکلیں گے کبھی گر آپ میں آنا ہوا

بیشتر بلبل سے تھا سر میں مرے شور جنوںفصل گل آنے نہ پائی تھی کہ دیوانہ ہوا

گرمی فرقت میں جب اشکوں سے مژگاں تر ہوئیںمردمان چشم کے رہنے کو خس خانہ ہوا

کارخانے جتنے ہیں دنیا کے سب ہیں بے ثباتآنکھ سے جو آج دیکھا کل وہ افسانہ ہوا

ہنستے ہنستے دل لگی کے واسطے ناپا جو آجسرو کا قد اس سہی قامت کے تا شانہ ہوا

یوسف مصر محبت کیسا ارزاں بک گیانقد دل قیمت ہوئی اک بوسہ بیعانہ ہوا

جل کے اس نے جان دی یہ نالے کر کے رہ گئیعشق بلبل پر بھی فائق عشق پروانہ ہوا

عشق دنداں کی خطا پر قتل جو مجھ کو کیااس لیے شمشیر قاتل میں بھی دندانہ ہوا

میں نے جانا کاسۂ سر ہے کسی مے خوار کاواژگونہ دست ساقی میں جو پیمانہ ہوا

مژدہ باد اے بادہ خوارو دور واعظ ہو چکامدرسے کھولے گئے تعمیر مے خانہ ہوا

رندؔ ہوں روز ازل سے ہوں میں وارفتہ مزاجاس لیے طور سخن بھی اپنا رندانہ ہوا

— رند لکھنوی