7 اشعار

مہرباں مجھ پہ کوئی ناز کا پالا ہوتا

Meharban mujh pe koi naaz ka pala hota

مہرباں مجھ پہ کوئی ناز کا پالا ہوتا

«مہرباں مجھ پہ کوئی ناز کا پالا ہوتا» ساحر بھوپالی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «وفا تو کیسی جفا بھی نہیں ہے اب ہم پر ساحر بھوپالی» میں 26 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

مہرباں مجھ پہ کوئی ناز کا پالا ہوتامیرا پہلو بھی کسی چاند کا ہالا ہوتا

پھر دکھاتا ترے جلووں کا فسوں گر تجھ کومیری آنکھوں سے کوئی دیکھنے والا ہوتا

گر میسر نہ تھی دنیا میں مسرت تجھ کوزیست کو درد کے سانچے ہی میں ڈھالا ہوتا

رنج و غم ایک ہیں اس کار گہ ہستی کےدل کی آنکھوں سے مگر دیکھنے والا ہوتا

چن لیا مجھ کو کہ منشائے مشیت تھا یہیحسن کا تیرے کوئی چاہنے والا ہوتا

حرف آ کر ہی رہا تیرے کرم پر ساقیگرنے والے کو کسی نے تو سنبھالا ہوتا

راز دل کہہ کے انہیں کر دیا خودبیں ساحرؔیوں محبت کو مصیبت میں نہ ڈالا ہوتا

— ساحر بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں