7 اشعار

سزا وارِ رشکِ جہاں ہو گئے ہم

Saza war-e-rishk-e-jahan ho gaye hum

سزا وارِ رشکِ جہاں ہو گئے ہم

«سزا وارِ رشکِ جہاں ہو گئے ہم» ساحر بھوپالی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «وفا تو کیسی جفا بھی نہیں ہے اب ہم پر ساحر بھوپالی» میں 26 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

سزا وارِ رشکِ جہاں ہو گئے ہمتِرے عشق میں بے نشاں ہو گئے ہم

فسانہ غمِ ہجر کا کہتے کہتےخود عبرت کی اک داستاں ہو گئے ہم

شب و روز بڑھتی گئی سوزشِ غمیہاں تک کہ آتش بجاں ہو گئے ہم

تِرے آستاں تک تو لائی تھی وحشتخدا جانے پھر گم کہاں ہو گئے ہم

تصدق تِرے، آہ، اے دردِ الفتتجھے پا کے صاحبقراں ہو گئے ہم

ہوا موجزن جب کہ دریائے الفتحدیں توڑ دیں بیکراں ہو گئے ہم

بڑھا دردِ دل بھی تو کب آہ ساحرؔکہ جب بے نیازِ فغاں ہو گئے ہم

— ساحر بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں