6 اشعار

نہ دیجے دعوت عشرت گلوں کے سائے میں

Na deeje daawat-e-ishrat gulon ke saaye mein

نہ دیجے دعوت عشرت گلوں کے سائے میں

«نہ دیجے دعوت عشرت گلوں کے سائے میں» ساحر بھوپالی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

نہ دیجے دعوت عشرت گلوں کے سائے میںکہ دل کو ہوتی ہے وحشت گلوں کے سائے میں

اسے تو خانۂ ویراں میں چین ملتا ہےسکوں نہ پائے گی حسرت گلوں کے سائے میں

خبر نہ تھی کہ یوں آئے گی اب کے فصل گلکہ ہوگی غم کی ضرورت گلوں کے سائے میں

الجھ کے رہ گیا دامان شوق کانٹوں میںنہ نکلی جب کوئی حسرت گلوں کے سائے میں

ہر ایک چوٹ ابھر آئی ہے تمنا کیملی ہے درد میں لذت گلوں کے سائے میں

نہ توڑا پھول کوئی اس لئے کہ اے ساحرؔپلی ہے میری محبت گلوں کے سائے میں

— ساحر بھوپالی