9 اشعار

جلوہ کرم کا اس نے دکھایا نہیں ہنوز

Jalwa karam ka us ne dikhaya nahin hanooz

جلوہ کرم کا اس نے دکھایا نہیں ہنوز

«جلوہ کرم کا اس نے دکھایا نہیں ہنوز» ساحر بھوپالی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

جلوہ کرم کا اس نے دکھایا نہیں ہنوزذرے کو آفتاب بنایا نہیں ہنوز

جو چاہے دیکھ لے تجھے میری نگاہ سےمیں نے تجھے کسی سے چھپایا نہیں ہنوز

مانا کہ التفات فزوں تر ہے آپ کادل نے مگر غموں کو بھلایا نہیں ہنوز

الجھا ہوا ہوں آج بھی تیرے خیال سےدامن کو خار غم سے چھڑایا نہیں ہنوز

مٹ کر بھی دل کو لطف و کرم کی ہے آرزوگویا صلہ وفاؤں کا پایا نہیں ہنوز

وہ جس پہ آبروئے وفا کا مدار ہےوہ اشک شوق میں نے بہایا نہیں ہنوز

بے داغ آج بھی ہے جبین نیاز عشقسر کو کہیں پہ میں نے جھکایا نہیں ہنوز

جس پر ہے انحصار مری موت و زیست کامیں نے وہ راز تم کو بتایا نہیں ہنوز

ساحرؔ کسی سے ملنے کی حسرت ہو کس لئےمیں نے خود اپنے آپ کو پایا نہیں ہنوز

— ساحر بھوپالی