8 اشعار

ھوں پیادہ میں زندگی تیرا

Hoon piyada main zindagi tera

ھوں پیادہ میں زندگی تیرا

«ھوں پیادہ میں زندگی تیرا» سجاد رضا کا کلام ہے، جسے شاعر نے خود سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی)» میں 25 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 59 سیکنڈ ہے۔

ھوں پیادہ میں زندگی تیراکھیل سارا ہے زندگی تیرا

تو نچاتی رہی اشاروں پرھے تماشہ یہ زندگی تیرا

اک سزا اور جو مسلسل ہےکیا میں مجرم ہوں زندگی تیرا

یوں تو ہر سانس نے اتارا مگرقرض اُترا نہ زندگی تیرا

جانے کس پل سفر تمام کرےکیا بھروسہ ھے زندگی تیرا

جس کا انجام ہی جُدائی ہےہے سفر کیسا زندگی تیرا

بارہا میں نے پڑھا چہروں پرنوحہ لکھا ہے زندگی تیرا

کس کو دعویٰ رضا سمجھنے کابھید مشکل ھے زندگی تیرا

— سجاد رضا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں