بند ہوتی کتابوں میں اڑتی ہوئی تتلیاں ڈال دیں
کلام: نوشی گیلانی
بند ہوتی کتابوں میں اڑتی ہوئی تتلیاں ڈال دیںکس کی رسموں کی جلتی ہوئی آگ میں لڑکیاں ڈال دیں
خوف کیسا ہے یہ نام اس کا کہیں زیر لب بھی نہیںجس نے ہاتھوں میں میرے ہرے کانچ کی چوڑیاں ڈال دیں