شکست ساز
کلام: ادا جعفری
میں نے گل ریز بہاروں کی تمنا کی تھیمجھے افسردہ نگاہوں کے سوا کچھ نہ ملا
چند سہمی ہوئی آہوں کے سوا کچھ نہ ملاجگمگاتے ہوئے تاروں کی تمنا کی تھی
ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری)
مہمان شاعر: ادا جعفری
میں نے گل ریز بہاروں کی تمنا کی تھیمجھے افسردہ نگاہوں کے سوا کچھ نہ ملا
چند سہمی ہوئی آہوں کے سوا کچھ نہ ملاجگمگاتے ہوئے تاروں کی تمنا کی تھی
کتنے مظلوم گئے دنیا سےروز محشر کے انتظار میں ھیں
اور اس دن خُدا سے بولیں گےبڑے ظالم تھے نام لیوا تیرے