5 اشعار

اب کس سے کہیں بھول گئے ہیں نگر اپنا

Ab kis se kahein bhool gaye hain nagar apna

اب کس سے کہیں بھول گئے ہیں نگر اپنا

«اب کس سے کہیں بھول گئے ہیں نگر اپنا» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

اب کس سے کہیں بھول گئے ہیں نگر اپناجنگل کے اندھیروں میں کٹا ہے سفر اپنا

بدلیں جو ہوائیں تو پلٹ کر وہیں آئےڈھونڈا انہی شاخوں میں پرندوں نے گھر اپنا

پھولوں سے بھرے کنج تو اک خواب ہی ٹھہرےیہ سایۂ دیوار خزاں ہے مگر اپنا

آنکھوں سے الجھنے لگے بیتے ہوئے موسمکیا نام لکھیں شہر کی دیوار پر اپنا

خاموش فصیلوں پے ہمکتی ہوئی بیلیںدکھلا ہی دیا موسم گل نے اثر اپنا

— ثروت حسین