4 اشعار

بادل گرجے دیواروں میں بجلی چمکی آئینے پر

Badal garje deewaron mein bijli chamki aaine par

بادل گرجے دیواروں میں بجلی چمکی آئینے پر

«بادل گرجے دیواروں میں بجلی چمکی آئینے پر» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

بادل گرجے دیواروں میں بجلی چمکی آئینے پراس نے اپنے ہونٹھ جو رکھے میرے بالوں بھرے سینے پر

پھر یہ پرند نہیں چہکیں گے پھر یہ پھول نہیں مہکیں گےمٹی کی موسیقی سن لو میرے دل کے سازینے پر

انگوروں کا رس تو میں نے اس سے پہلے بھی چکھا تھااور ہی آگ دہک اٹھی ہے تیرے ہونٹھوں سے پینے پر

میرے گھوڑے کی ٹاپوں سے گونج رہے ہیں معبد و مقتللیکن وہ خاموش کھڑی ہے پتھر کے اونچے زینے پر

— ثروت حسین