5 اشعار

کوئی نشاں سر دیوار و بام اپنا نہیں

Koi nishaan sar-e-deewar-o-baam apna nahin

کوئی نشاں سر دیوار و بام اپنا نہیں

«کوئی نشاں سر دیوار و بام اپنا نہیں» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 38 سیکنڈ ہے۔

کوئی نشاں سر دیوار و بام اپنا نہیںکسی نگر کسی بن میں قیام اپنا نہیں

ہوا کے ساتھ ہوا بارشوں میں بارش ہیںکسی شجر کسی پتے پہ نام اپنا نہیں

تلاش دل کو بیابان شام ہجراں کیکہ ان ہواؤں میں خواب و خرام اپنا نہیں

کبھی کبھی کوئی بادل گزر ہی جاتا ہےنہیں کہ سلسلۂ صبح و شام اپنا نہیں

بہت سے لوگ ہیں آشفتہ کار و خاک بسرجہاں تلک ہے یہ صحرا تمام اپنا نہیں

— ثروت حسین