5 اشعار

رفتہ رفتہ اک ہجوم کہکشاں بنتا گیا

Rafta rafta ik hujoom kahkashaan banta gaya

رفتہ رفتہ اک ہجوم کہکشاں بنتا گیا

«رفتہ رفتہ اک ہجوم کہکشاں بنتا گیا» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

رفتہ رفتہ اک ہجوم کہکشاں بنتا گیاآسماں پر اور ہی اک آسماں بنتا گیا

چھوٹے چھوٹے لوگ تھے اور چھوٹی چھوٹی خواہشیںسو میں ان کے درمیاں اک داستاں بنتا گیا

میری سیرابی کے قصے شہر کی گلیوں میں تھےمیری محرومی کا سایہ جاوداں بنتا گیا

پھول اتنے تھے کہ میرے ہاتھ چھوٹے پڑ گئےکاروبار عشق کار گلستاں بنتا گیا

آگ کے نزدیک آ جانا بہت آسان تھاپھر مرا قرب مسلسل امتحاں بنتا گیا

— ثروت حسین