5 اشعار

ایسا بھی کوئی مہرباں جو مرے ساتھ چل سکے

Aisa bhi koi meherbaan jo mere saath chal sake

ایسا بھی کوئی مہرباں جو مرے ساتھ چل سکے

«ایسا بھی کوئی مہرباں جو مرے ساتھ چل سکے» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

ایسا بھی کوئی مہرباں جو مرے ساتھ چل سکےبار ستم اٹھا سکے نظم جہاں بدل سکے

تیرہ و تار ہے زمیں پاس مرے کوئی نہیںمیں اسی فکر میں غمیں میرا چراغ جل سکے

کارگہ وجود میں ابر و ہوائے پیش و پسمیری یہی دعا کہ بس آدمی پھول پھل سکے

عشق کا نام چاہئے حسن کلام چاہئےایسا کوئی سخن نہیں شعر میں جو نہ ڈھل سکے

زندگی کی رمق ملے ایک نیا افق ملےساتھیو گرد و پیش کی برف اگر پگھل سکے

— ثروت حسین