10 اشعار

اب کیا بتاؤں میں ترے ملنے سے کیا ملا

Ab kya bataaun main tere milne se kya mila

اب کیا بتاؤں میں ترے ملنے سے کیا ملا

«اب کیا بتاؤں میں ترے ملنے سے کیا ملا» سیماب اکبر آبادی کا کلام ہے، جسے ندیم بخاری نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ماضی مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ سیماب اکبر آبادی» میں 19 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 16 سیکنڈ ہے۔

اب کیا بتاؤں میں ترے ملنے سے کیا ملاعرفان غم ہوا مجھے اپنا پتا ملا

جب دور تک نہ کوئی فقیر آشنا ملاتیرا نیاز مند ترے در سے جا ملا

منزل ملی مراد ملی مدعا ملاسب کچھ مجھے ملا جو ترا نقش پا ملا

خود بین و خود شناس ملا خود نما ملاانساں کے بھیس میں مجھے اکثر خدا ملا

سرگشتۂ جمال کی حیرانیاں نہ پوچھہر ذرے کے حجاب میں اک آئنہ ملا

پایا تجھے حدود تعین سے ماورامنزل سے کچھ نکل کے ترا راستہ ملا

کیوں یہ خدا کے ڈھونڈنے والے ہیں نامرادگزرا میں جب حدود خودی سے خدا ملا

یہ ایک ہی تو نعمت انساں نواز تھیدل مجھ کو مل گیا تو خدائی کو کیا ملا

یا زخم دل کو چھیل کے سینے سے پھینک دےیا اعتراف کر کہ نشان وفا ملا

سیمابؔ کو شگفتہ نہ دیکھا تمام عمرکم بخت جب ملا ہمیں غم آشنا ملا

— سیماب اکبر آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں