25 اشعار

شاید جگہ نصیب ہو اس گل کے ہار میں

Shaayad jagah naseeb ho us gul ke haar mein

شاید جگہ نصیب ہو اس گل کے ہار میں

«شاید جگہ نصیب ہو اس گل کے ہار میں» سیماب اکبر آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 51 سیکنڈ ہے۔

شاید جگہ نصیب ہو اس گل کے ہار میںمیں پھول بن کے آؤں گا اب کی بہار میں

کفنائے باغباں مجھے پھولوں کے ہار میںکچھ تو برا ہو دل مرا اب کی بہار میں

گندھوا کے دل کو لائے ہیں پھولوں کے ہار میںیہ ہار ان کو نذر کریں گے بہار میں

نچلا رہا نہ سوز دروں انتظار میںاس آگ نے سرنگ لگا دی مزار میں

خلوت خیال یار سے ہے انتظار میںآئیں فرشتے لے کے اجازت مزار میں

ہم کو تو جاگنا ہے ترے انتظار میںآئی ہو جس کو نیند وہ سوئے مزار میں

میں دل کی قدر کیوں نہ کروں ہجر یار میںان کی سی شوخیاں ہیں اسی بے قرار میں

سیمابؔ بے تڑپ سی تڑپ ہجر یار میںکیا بجلیاں بھری ہیں دل بے قرار میں

تھی تاب حسن شوخیٔ تصویر یار میںبجلی چمک گئی نظر بے قرار میں

بادل کی یہ گرج نہیں ابر بہار میںبرا رہا ہے کوئی شرابی خمار میں

عمر دراز مانگ کے لائی تھی چار دندو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں

تنہا مرے ستانے کو رہ جائے کیوں زمیںاے آسمان تو بھی اتر آ مزار میں

خود حسن نا خدائے محبت خدائے دلکیا کیا لئے ہیں میں نے ترے نام پیار میں

مجھ کو مٹا گئی روش شرمگیں تریمیں جذب ہو گیا نگۂ شرمسار میں

اللہ رے شام غم مری بے اختیاریاںاک دل ہے پاس وہ بھی نہیں اختیار میں

اے اشک گرم ماند نہ پڑ جائے روشنیپھر تیل ہو چکا ہے دل داغدار میں

یہ معجزہ ہے وحشت عریاں پسند کامیں کوئے یار میں ہوں کفن ہے مزار میں

اے درد دل کو چھیڑ کے پھر بار بار چھیڑہے چھیڑ کا مزا خلش بار بار میں

افراط معصیت سے فضیلت ملی مجھےمیں ہوں گناہ گاروں کی پہلی قطار میں

ڈرتا ہوں یہ تڑپ کے لحد کو الٹ نہ دےہاتھوں سے دل دبائے ہوئے ہوں مزار میں

تم نے تو ہاتھ جور و ستم سے اٹھا لیااب کیا مزا رہا ستم روزگار میں

کیا جانے رحمتوں نے لیا کس طرح حسابدو چار بھی گناہ نہ نکلے شمار میں

او پردہ دار اب تو نکل آ کہ حشر ہےدنیا کھڑی ہوئی ہے ترے انتظار میں

روئی ہے ساری رات اندھیرے میں بے کسیآنسو بھرے ہوئے ہیں چراغ مزار میں

سیمابؔ پھول اگیں لحد عندلیب سےاتنی تو زندگی ہو ہوائے بہار میں

— سیماب اکبر آبادی