اب کیا بتاؤں میں ترے ملنے سے کیا ملا
کلام: سیماب اکبر آبادی
اب کیا بتاؤں میں ترے ملنے سے کیا ملاعرفان غم ہوا مجھے اپنا پتا ملا
جب دور تک نہ کوئی فقیر آشنا ملاتیرا نیاز مند ترے در سے جا ملا
ماضی مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ سیماب اکبر آبادی
مہمان شاعر: سیماب اکبر آبادی
اب کیا بتاؤں میں ترے ملنے سے کیا ملاعرفان غم ہوا مجھے اپنا پتا ملا
جب دور تک نہ کوئی فقیر آشنا ملاتیرا نیاز مند ترے در سے جا ملا
شکریہ ہستی کا! لیکن تم نے یہ کیا کر دیاپردے ہی پردے میں اپنا راز افشا کر دیا
مانگ کر ہم لائے تھے اللہ سے اک درد عشقوہ بھی اب تقدیر نے اوروں کا حصہ کر دیا