5 اشعار

افسوس گزر گئی جوانی

Afsos guzar gayi jawani

افسوس گزر گئی جوانی

«افسوس گزر گئی جوانی» سیماب اکبر آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

افسوس گزر گئی جوانیوہ لمحۂ کیف و شادمانی

کیا آ گئی نیند اہل محفلکہنی تھی ہمیں بھی اک کہانی

میں حسن وفا کی زندگی تھاتم نے مری قدر ہی نہ جانی

اب تک ایمن کی وادیوں سےآتی ہے صدائے لن ترانی

سیمابؔ کرو اب اللہ اللہتا چند یہ ماتم جوانی

— سیماب اکبر آبادی