12 اشعار

بقید وقت یہ مژدہ سنا رہا ہے کوئی

Baqayud-e-waqt yeh muzhda suna raha hai koi

بقید وقت یہ مژدہ سنا رہا ہے کوئی

«بقید وقت یہ مژدہ سنا رہا ہے کوئی» سیماب اکبر آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 29 سیکنڈ ہے۔

بقید وقت یہ مژدہ سنا رہا ہے کوئیکہ انقلاب کے پردے میں آ رہا ہے کوئی

خودی کو راہ خدائی پہ لا رہا ہے کوئیابھی دماغ بشر آزما رہا ہے کوئی

جہاں خرابۂ ہستی مٹا رہا ہے کوئیوہیں کہیں نئی دنیا بنا رہا ہے کوئی

ابھی نقاب کشائی حسن ہے دشواروہی اٹھے ہوئے پردے اٹھا رہا ہے کوئی

جو ذہن میں ہے وہ تصویر بن نہیں چکتیبنا بنا کے ہیولے مٹا رہا ہے کوئی

بھلا رہا ہے کسی کو تو بر بنائے مآلیہ غور کر کہ بھلایا بھی جا رہا ہے کوئی

دل فسردہ کی باتوں پہ یہ تبسم نازکلی کو پھول بنانا سکھا رہا ہے کوئی

وفا کی داد ہے کوتاہیٔ وفا کی دلیلمیں جانتا ہوں کہ ہمت بڑھا رہا ہے کوئی

حدیث کہنہ ہے روداد انقلاب چمنسنی ہوئی سی کہانی سنا رہا ہے کوئی

مری وفاؤں کا ہے اعتراف میرے بعدخوشا نصیب مجھے کھو کے پا رہا ہے کوئی

ہے اپنے سائے سے وحشت میں کس قدر تسکیںسمجھ رہا ہوں مرے ساتھ آ رہا ہے کوئی

نصیب ذوق ہو سیمابؔ قسمت موسیٰہمیں بھی طور کی جانب بلا رہا ہے کوئی

— سیماب اکبر آبادی