5 اشعار

ہستی کو مری مستئ پیمانہ بنا دے

Hasti ko meri masti-e-paimana bana de

ہستی کو مری مستئ پیمانہ بنا دے

«ہستی کو مری مستئ پیمانہ بنا دے» سیماب اکبر آبادی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ماضی مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ سیماب اکبر آبادی» میں 19 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 32 سیکنڈ ہے۔

ہستی کو مری مستئ پیمانہ بنا دےاے بے خبری حاصل مے خانہ بنا دے

طالب ہوں میں اس ایک نگاہ دو اثر کاجو ہوش میں لا کر مجھے دیوانہ بنا دے

اے برہمن اک دن بت پندار کو اپنےتوڑ اور چراغ در بت خانہ بنا دے

کہہ دو کہ بہار آئے تو بیکار نہ بیٹھےدیوانہ بنے یا مجھے دیوانہ بنا دے

دیوانگیٔ عشق بڑی چیز ہے سیمابؔیہ اس کا کرم ہے جسے دیوانہ بنا دے

— سیماب اکبر آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں