17 اشعار

وہ تنہائی ہو یا محفل ہو تسکیں دل کی مشکل ہے

Wo tanhai ho ya mahfil ho taskeen-e-dil ki mushkil hai

وہ تنہائی ہو یا محفل ہو تسکیں دل کی مشکل ہے

«وہ تنہائی ہو یا محفل ہو تسکیں دل کی مشکل ہے» سیماب اکبر آبادی کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ماضی مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ سیماب اکبر آبادی» میں 19 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 29 سیکنڈ ہے۔

وہ تنہائی ہو یا محفل ہو تسکیں دل کی مشکل ہےبنا لیتا ہے خود اپنے لئے جلوے یہ وہ دل ہے

ہے باطل محفل عالم تو پھر مشکل ہی مشکل ہےمری نظریں بھی باطل ہیں ترا جلوہ بھی باطل ہے

وہاں ہوں میں جہاں تمئیز حسن و عشق مشکل ہےہر اک جلوہ اب آغوش نظر میں جلوۂ دل ہے

کمال علم و تحقیق مکمل کا یہ حاصل ہےترا ادراک مشکل تھا ترا ادراک مشکل ہے

یہ ویرانی تصور کی وہ رنگینی خیالوں کیکبھی محفل میں خلوت ہے کبھی خلوت میں محفل ہے

غلط سمجھا جو تو محدود سمجھا راہ ہستی کوجہاں ہوتی ہے منزل ختم وہ آغاز منزل ہے

جنوں کا ہاتھ دامن سے نہ پہنچا پردۂ دل تکابھی باقی وہی پابندیٔ آداب محمل ہے

بقدر ظرف و ہمت سہل و مشکل ہے رہ الفتیہاں ساحل بھی دریا ہے یہاں دریا بھی ساحل ہے

اڑا کر دھجیاں پیراہن ہستی کی خوش تھا میںندا آئی یہ دیوانے جنوں کی پہلی منزل ہے

ہوئی معلوم وجہ اضطراب و شورش عالمیہاں دل ہے ہر اک ذرہ ہر اک ذرہ میں اک دل ہے

میں غافل ہو کے دانستہ خراب بزم ہستی ہوںسمجھتا ہوں کہ یہ محفل نہیں ہے خواب محفل ہے

وہ آئینہ ہو یا ہو پھول تارہ ہو کہ پیمانہکہیں جو کچھ بھی ٹوٹا میں یہی سمجھا مرا دل ہے

نہ چھیڑ اے نغمہ گر تسکین بے ہنگامہ کے نغمےفضاؤں میں ابھی گنجائش شور سلاسل ہے

اجالا ہو تو ڈھونڈوں دل بھی پروانوں کی لاشوں میںمری بربادیوں کو انتظار صبح محفل ہے

الٰہی غفلت عالم کو رنگ ہوشیاری دےکہ تو غافل نہیں دنیا سے دنیا تجھ سے غافل ہے

وہ دل لے کر ہمیں بے دل نہ سمجھیں ان سے کہہ دیناجو ہیں مارے ہوئے نظروں کے ان کی ہر نظر دل ہے

وہ اے سیمابؔ کیوں سرگشتۂ تسنیم و جنت ہومیسر جس کو سیر تاج اور جمنا کا ساحل ہے

— سیماب اکبر آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں