بلبل اور گلاب
کلام: سیماب اکبر آبادی
بلبلاے رنگ بھرے گلاب کے پھول
اس شان اس آب و تاب کے پھولدلچسپ بہت ہیں رنگ تیرے
ماضی مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ سیماب اکبر آبادی
مہمان شاعر: سیماب اکبر آبادی
بلبلاے رنگ بھرے گلاب کے پھول
اس شان اس آب و تاب کے پھولدلچسپ بہت ہیں رنگ تیرے
آنکھ سے ٹپکا جو آنسو وہ ستارا ہو گیامیرا دامن آج دامان ثریا ہو گیا
اس کے جی میں کیا یہ آئی یہ اسے کیا ہو گیاخود چھپا عالم سے اور خود عالم آرا ہو گیا