5 اشعار

دل تیرے تغافل سے خبردار نہ ہو جائے

Dil tere taghaful se khabardar na ho jaaye

دل تیرے تغافل سے خبردار نہ ہو جائے

«دل تیرے تغافل سے خبردار نہ ہو جائے» سیماب اکبر آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 28 سیکنڈ ہے۔

دل تیرے تغافل سے خبردار نہ ہو جائےیہ فتنہ کہیں خواب سے بیدار نہ ہو جائے

مدت سے یہی پردہ یہی پردہ دری ہےہو کوئی تو پردہ سے نمودار نہ ہو جائے

مجھ سے مرا افسانۂ ماضی نہ سنو تمافسانہ نیا پھر کوئی تیار نہ ہو جائے

اے مستئ الفت سبق کفر دیئے جاجب تک مجھے ہر چیز سے انکار نہ ہو جائے

ہونا ہے جو ہستی کو مری خاک ہی سیمابؔپہلے ہی سے کیوں خاک در یار نہ ہو جائے

— سیماب اکبر آبادی