5 اشعار

ادراک خود آشنا نہیں ہے

Idrak e khud aashna nahin hai

ادراک خود آشنا نہیں ہے

«ادراک خود آشنا نہیں ہے» سیماب اکبر آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 27 سیکنڈ ہے۔

ادراک خود آشنا نہیں ہےورنہ انساں میں کیا نہیں ہے

کیا ڈھونڈھنے جاؤں میں کسی کواپنا مجھے خود پتا نہیں ہے

کیوں جام شراب ناب مانگوںساقی کی نظر میں کیا نہیں ہے

حسن اور نوازش محبتایسا تو کبھی ہوا نہیں ہے

سیمابؔ چمن میں جوش گل سےگنجائش نقش پا نہیں ہے

— سیماب اکبر آبادی