5 اشعار

جہان رنگ و بو میں مستقل تخلیق مستی ہے

Jahan e rang o bu mein mustaqil takhliq e masti hai

جہان رنگ و بو میں مستقل تخلیق مستی ہے

«جہان رنگ و بو میں مستقل تخلیق مستی ہے» سیماب اکبر آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

جہان رنگ و بو میں مستقل تخلیق مستی ہےچمن میں رات بھر بنتی ہے اور دن بھر برستی ہے

نگاہ عشق و چشم حسن دو ساون کے بادل ہےیہ جب ملتے ہیں دل پر ایک بجلی سی برستی ہے

اگر ہے زندگی منظور بے سوچے فنا ہو جامذاق عاشقی میں نیستی کا نام ہستی ہے

یکایک پھر چراغ امید کے ہونے لگے روشنیہ صبح روز محشر ہے کہ شام صبح ہستی ہے

خدا سے حکم تنسیخ اجل مانگیں گے محشر میںمگر سیمابؔ یہ تو قصۂ ما بعد ہستی ہے

— سیماب اکبر آبادی