5 اشعار

مرتب ہو کے اک محشر غبار دل سے نکلے گا

Murattab ho ke ek mahshar ghubar e dil se nikle ga

مرتب ہو کے اک محشر غبار دل سے نکلے گا

«مرتب ہو کے اک محشر غبار دل سے نکلے گا» سیماب اکبر آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

مرتب ہو کے اک محشر غبار دل سے نکلے گانیا اک کارواں گرد رہ منزل سے نکلے گا

ہمارے منہ سے اور شکوہ تمہارا ہو نہیں سکتاتمہارا نام بھی شاید بڑی مشکل سے نکلے گا

نہ ہوگا گوشۂ دامن مرا وابستۂ منزلنہ جب تک ہاتھ تیرا پردۂ منزل سے نکلے گا

مری آنکھیں ہیں بزم رنگ و بو میں منتظر تیرینہیں معلوم تو کب تک حجاب دل سے نکلے گا

میں اپنے دل کو یوں پیش نظر سیمابؔ رکھتا ہوںکہ میرا چاند جب نکلا اسی منزل سے نکلے گا

— سیماب اکبر آبادی