5 اشعار

اجازت دے کہ اپنی داستان غم بیاں کر لیں

Ijazat de ke apni dastaan-e-gham bayan kar lein

اجازت دے کہ اپنی داستان غم بیاں کر لیں

«اجازت دے کہ اپنی داستان غم بیاں کر لیں» سیماب اکبر آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

اجازت دے کہ اپنی داستان غم بیاں کر لیںترے احساس اور اپنی زباں کا امتحاں کر لیں

حیات جاوداں بھی عشق میں برباد کر لیں گےمتاع ہستی فانی تو پہلے رائیگاں کر لیں

یہ سازش کر رہے ہیں چند تنکے آشیانے کےکہ بجلی کو کسی صورت اسیر آشیاں کر لیں

شب غم اے تصور ان کو مجبور تبسم کرمرتب اس اجالے میں ہم اپنی داستاں کر لیں

ٹھکانا ہو کہاں سیمابؔ پھر ناز آفرینی کااگر ہم اپنے دل کو بے نیاز دو جہاں کر لیں

— سیماب اکبر آبادی