5 اشعار

جو سالک ہے تو اپنے نفس کا عرفان پیدا کر

Jo salik hai to apne nafs ka irfan paida kar

جو سالک ہے تو اپنے نفس کا عرفان پیدا کر

«جو سالک ہے تو اپنے نفس کا عرفان پیدا کر» سیماب اکبر آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

جو سالک ہے تو اپنے نفس کا عرفان پیدا کرحقیقت تیری کیا ہے پہلے یہ پہچان پیدا کر

جہاں جانے کو سب دشوار ہی دشوار کہتے ہیںوہاں جانے کا کوئی راستہ آسان پیدا کر

حقیقت کا کہے جو حال کر ایسی زباں پیدامحبت کے سنیں جو گیت ایسے کان پیدا کر

حدود عالم تکویں میں سب ممکن ہی ممکن ہےتو نا ممکن کے جھگڑے میں نہ پڑا امکان پیدا کر

الٰہی بھید تیرے اس نے ظاہر کر دیئے سب پرکہا تھا کس نے تو سیمابؔ کو انسان پیدا کر

— سیماب اکبر آبادی