7 اشعار

جلوہ گاہ دل میں مرتے ہی اندھیرا ہو گیا

Jalwa gah e dil mein marte hi andhera ho gaya

جلوہ گاہ دل میں مرتے ہی اندھیرا ہو گیا

«جلوہ گاہ دل میں مرتے ہی اندھیرا ہو گیا» سیماب اکبر آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

جلوہ گاہ دل میں مرتے ہی اندھیرا ہو گیاجس میں تھے جلوے ترے وہ آئنہ کیا ہو گیا

جب تصور نے بڑھا دی نالۂ موزوں کی لےساز بے آواز سے اک شعر پیدا ہو گیا

نجد کے ہرنوں سے اعجاز محبت پوچھیےپڑ گئی جس پر نگاہ قیس لیلیٰ ہو گیا

جان دے دی میں نے تنگ آ کر وفور درد سےآج منشائے جفائے دوست پورا ہو گیا

اب کہاں مایوسیوں میں ضبط کی گنجائشیںوہ بھی کیا دن تھے کہ تیرا غم گوارا ہو گیا

دل کھنچا جتنا قفس میں آشیانے کی طرفدور اتنا ہی قفس سے آشیانا ہو گیا

رفتہ رفتہ ہو گئے جذب اس میں جلوے سینکڑوںدل مرا سیمابؔ تصویر سراپا ہو گیا

— سیماب اکبر آبادی