5 اشعار

نہ وہ فریاد کا مطلب نہ منشائے فغاں سمجھے

Na wo faryaad ka matlab na mansha e fughan samjhe

نہ وہ فریاد کا مطلب نہ منشائے فغاں سمجھے

«نہ وہ فریاد کا مطلب نہ منشائے فغاں سمجھے» سیماب اکبر آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

نہ وہ فریاد کا مطلب نہ منشائے فغاں سمجھےہم آج اپنی شب غم کی غلط سامانیاں سمجھے

بڑی مشکل سے ان کا راز الفت ہو سکا پنہاںبڑی مدت میں جا کر ہم مزاج راز داں سمجھے

اب آیا ہے تو بیٹھے چارہ گر خاموش بالیں پرمری بے چینیاں دیکھے مری بے تابیاں سمجھے

پیام شادمانی کیا سمجھ کر دے کوئی اس کوجو تیرے غم کو تکمیل نشاط دو جہاں سمجھے

میں اس دنیا میں اے سیمابؔ اک راز حقیقت تھاسمجھنے کی طرح اہل جہاں مجھ کو کہاں سمجھے

— سیماب اکبر آبادی