7 اشعار

جو میرے تنگنائے دل میں تجھ کو جلوہ گر دیکھا

Jo mere tangnay-e dil mein tujh ko jalwah-gar dekha

جو میرے تنگنائے دل میں تجھ کو جلوہ گر دیکھا

«جو میرے تنگنائے دل میں تجھ کو جلوہ گر دیکھا» سیماب اکبر آبادی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ماضی مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ سیماب اکبر آبادی» میں 19 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

جو میرے تنگنائے دل میں تجھ کو جلوہ گر دیکھامری نظروں نے حیرت سے مجھی کو عمر بھر دیکھا

تصور کی حدوں میں بھی سمانا جن کا مشکل تھانظر والوں نے ان جلووں کو تا حد نظر دیکھا

سب اپنے دل میں اک تیر نظر محسوس کرتے ہیںمگر کوئی بتا سکتا نہیں اس نے کدھر دیکھا

تعین بر طرف مقصود مجھ کو سجدہ کرنا تھانہ ہم نے رہ گزر دیکھی نہ ہم نے سنگ در دیکھا

نظر آتا نہ تھا جو گرد افکار و حوادث میںوہ ساحل آنکھ نے طوفان غم میں ڈوب کر دیکھا

تمہارے سنگ در کو سنگ در میں کس طرح سمجھوںکہ جب سجدہ کیا سر کو جبین عرش پر دیکھا

عجب منزل تھی اے سیمابؔ اپنی منزل ہستینہ موقع تھا ٹھہرنے کا نہ یارائے سفر دیکھا

— سیماب اکبر آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں