6 اشعار

تقدیر میں اضافۂ سوز وفا ہوا

Taqdeer mein izaafa-e soz-e wafa hua

تقدیر میں اضافۂ سوز وفا ہوا

«تقدیر میں اضافۂ سوز وفا ہوا» سیماب اکبر آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

تقدیر میں اضافۂ سوز وفا ہوادل میں جو تم نے آگ لگا دی تو کیا ہوا

کہتے ہیں جس کو موت ہے اک بے خودی کی نینداس کو فنا کہاں ہے جو تجھ پر فنا ہوا

اے خادمان حسن یہ کیا انتظام ہےاب تک چراغ طور پڑا ہے بجھا ہوا

ہستی و نیستی کی حدیں دور رہ گئیںیہ آ گیا کہاں میں تجھے ڈھونڈھتا ہوا

منہ سے دعا نکل ہی گئی وقت قتل بھیکہنا یہ تھا کہ حق محبت ادا ہوا

بحث نیاز و ناز تھی کل بزم حسن میںسیمابؔ کچھ خبر نہیں کیا فیصلہ ہوا

— سیماب اکبر آبادی