7 اشعار

ضبط سے نا آشنا ہم صبر سے بیگانہ ہم

Zabt se naa-ashna hum sabr se be-ganah hum

ضبط سے نا آشنا ہم صبر سے بیگانہ ہم

«ضبط سے نا آشنا ہم صبر سے بیگانہ ہم» سیماب اکبر آبادی کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ماضی مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ سیماب اکبر آبادی» میں 19 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

ضبط سے نا آشنا ہم صبر سے بیگانہ ہمکیوں کسی سے مانگتے جائیں چراغ خانہ ہم

خود ہی ساز بے خودی کو چھیڑ دیتے ہیں کبھیخود ہی سنتے ہیں حدیث ساغر و پیمانہ ہم

دفعتاً ساز دو عالم بے صدا ہو جائے گاکہتے کہتے رک گئے جس دن ترا افسانہ ہم

شمع ایوان حرم ہو یا چراغ طاق دیرہم کو دونوں سے تعلق ہے کہ ہیں پروانہ ہم

دل جلا پھر خود جلے پھر ساری دنیا جل اٹھیسوز لائے تھے بمقدار پر پروانہ ہم

جب ہمیں دیوانہ بننا ہے تو کیسی مصلحتمصلحت کو بھی بنا لیں گے ترا دیوانہ ہم

بسکہ ہے سیمابؔ بے مہری یگانوں کا شعارہیں رہین التفات خاطر بیگانہ ہم

— سیماب اکبر آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں