5 اشعار

خود اٹھ کے ہاتھ میرے گریباں میں آ گئے

Khud uth ke haath mere garebaan mein aa gaye

خود اٹھ کے ہاتھ میرے گریباں میں آ گئے

«خود اٹھ کے ہاتھ میرے گریباں میں آ گئے» سیماب اکبر آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 37 سیکنڈ ہے۔

خود اٹھ کے ہاتھ میرے گریباں میں آ گئےشاید قدم جنوں کے گلستاں میں آ گئے

اس کے سوا بتائیں اسیری کا کیا سببگھبرائے انجمن سے تو زنداں میں آ گئے

کیا ہوگا چار پھولوں سے اے موسم بہاریہ تو ہمارے گوشۂ داماں میں آ گئے

جوش بہار اور یہ بے اختیاریاںسوئے چمن چلے تھے بیاباں میں آ گئے

سیمابؔ کبر و ناز کا انجام کچھ نہ پوچھسب رفتہ رفتہ گور غریباں میں آ گئے

— سیماب اکبر آبادی