5 اشعار

نسیم صبح گلشن میں گلوں سے کھیلتی ہوگی

Naseem-e-subah gulshan mein gulon se khelti hogi

نسیم صبح گلشن میں گلوں سے کھیلتی ہوگی

«نسیم صبح گلشن میں گلوں سے کھیلتی ہوگی» سیماب اکبر آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

نسیم صبح گلشن میں گلوں سے کھیلتی ہوگیکسی کی آخری ہچکی کسی کی دل لگی ہوگی

تجھے دانستہ محفل میں جو دیکھا ہو تو مجرم ہوںنظر آخر نظر ہے بے ارادہ اٹھ گئی ہوگی

مزہ آ جائے گا محشر میں کچھ سننے سنانے کازباں ہوگی ہماری اور کہانی آپ کی ہوگی

یہی عالم رہا پردہ نشینی کا تو ظاہر ہےخدائی آپ سے ہوگی نہ ہم سے بندگی ہوگی

تعجب کیا لگی جو آگ اے سیمابؔ سینے میںہزاروں دل میں انگارے بھرے تھے لگ گئی ہوگی

— سیماب اکبر آبادی