7 اشعار

غم مجھے حسرت مجھے وحشت مجھے سودا مجھے

Gham mujhe hasrat mujhe wahshat mujhe sauda mujhe

غم مجھے حسرت مجھے وحشت مجھے سودا مجھے

«غم مجھے حسرت مجھے وحشت مجھے سودا مجھے» سیماب اکبر آبادی کا کلام ہے، جسے فائیٹر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ماضی مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ سیماب اکبر آبادی» میں 19 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

غم مجھے حسرت مجھے وحشت مجھے سودا مجھےایک دل دے کر خدا نے دے دیا کیا کیا مجھے

ہے حصول آرزو کا راز ترک آرزومیں نے دنیا چھوڑ دی تو مل گئی دنیا مجھے

یہ نماز عشق ہے کیسا ادب کس کا ادباپنے پائے ناز پر کرنے بھی دے سجدا مجھے

کہہ کے سویا ہوں یہ اپنے اضطراب شوق سےجب وہ آئیں قبر پر فوراً جگا دینا مجھے

صبح تک کیا کیا تری امید نے طعنے دیےآ گیا تھا شام غم اک نیند کا جھوکا مجھے

دیکھتے ہی دیکھتے دنیا سے میں اٹھ جاؤں گادیکھتی کی دیکھتی رہ جائے گی دنیا مجھے

جلوہ گر ہے اس میں اے سیمابؔ اک دنیائے حسنجام جم سے ہے زیادہ دل کا آئینہ مجھے

— سیماب اکبر آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں