5 اشعار

شام فرقت انتہائے گردش ایام ہے

Shaam-e-furqat intihaye gardish-e-ayyam hai

شام فرقت انتہائے گردش ایام ہے

«شام فرقت انتہائے گردش ایام ہے» سیماب اکبر آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

شام فرقت انتہائے گردش ایام ہےجتنی صبحیں ہو چکی ہیں آج سب کی شام ہے

کوئے جاناں دیکھ کر جنت سے یوں مایوس ہوںپوچھتا پھرتا ہوں کیا جنت اسی کا نام ہے

اس طرح دنیا ہے اک معمورۂ ناز و نیازذرے ذرے پر مرا سجدہ تمہارا نام ہے

اللہ اللہ یہ تغافل اور اس پر یہ غرورکیا مجھے ناکام کر دینا بھی کوئی کام ہے

ہاں نہیں سیمابؔ مجھ کو اپنی ہستی پر غرورجانتا ہوں میں مری دنیا فنا انجام ہے

— سیماب اکبر آبادی