14 اشعار

مزدور

Mazdoor

مزدور

«مزدور» سیماب اکبر آبادی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ماضی مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ سیماب اکبر آبادی» میں 19 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 13 سیکنڈ ہے۔

گرد چہرے پر پسینے میں جبیں ڈوبی ہوئیآنسوؤں میں کہنیوں تک آستیں ڈوبی ہوئی

پیٹھ پر نا قابل برداشت اک بار گراںضعف سے لرزی ہوئی سارے بدن کی جھریاں

ہڈیوں میں تیز چلنے سے چٹخنے کی صدادرد میں ڈوبی ہوئی مجروح ٹخنے کی صدا

پاؤں مٹی کی تہوں میں میل سے چکٹے ہوئےایک بدبو دار میلا چیتھڑا باندھے ہوئے

جا رہا ہے جانور کی طرح گھبراتا ہواہانپتا گرتا لرزتا ٹھوکریں کھاتا ہوا

مضمحل واماندگی سے اور فاقوں سے نڈھالچار پیسے کی توقع سارے کنبے کا خیال

اپنے ہم جنسوں کی بے مہری سے مایوس و ملولصفحۂ ہستی پر اک سطر غلط حرف فضول

اپنی خلقت کو گناہوں کی سزا سمجھے ہوئےآدمی ہونے کو لعنت اور بلا سمجھے ہوئے

زندگی کو ناگوار اک سانحہ جانے ہوئےبزم کبر و ناز میں فرض اپنا پہچانے ہوئے

راستے میں راہگیروں کی نظر سے بے نیازشورش ماتم سے نغموں کے اثر سے بے نیاز

اس کے دل تک زندگی کی روشنی جاتی نہیںبھول کر بھی اس کے ہونٹوں پر ہنسی آتی نہیں

ایک لمحہ بھی نہیں فکر معیشت سے نجاتصبح ہو یا شام ہے تاریک اس کی کائنات

دیکھ اے قارون اعظم دیکھ اے سرمایہ دارنا مرادی کا مرقع بے کسی کا شاہکار

گو ہے تیری ہی طرح انساں مگر مقہور ہےدیکھ اے دولت کے اندھے سانپ یہ مزدور ہے

— سیماب اکبر آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں