10 اشعار

اب کہاں لے کے چھپیں عریاں بدن اور تن جلا

Ab kahan le ke chhupen uryaan badan aur tan jala

اب کہاں لے کے چھپیں عریاں بدن اور تن جلادھوپ ایسی ہے کہ سائے سے بھی پیراہن جلا

چھین لو احساس مجھ سے چھین لو میرا شعوراس گھٹا میں تن پھنکا اس روشنی سے من جلا

زندگی دشت سراب اور سر پہ اک سورج محیطمیں تو میں ہوں میرے سائے کا بھی سب تن من جلا

کس صدا کی ضرب سے ٹوٹا سکوت سنگ دشتایک چنگاری اڑی سارا کا سارا بن جلا

دل جو تھا سینے میں بچ سکتے تھے کب اہل خردشہر میں اک شور تھا دامن جلا دامن جلا

دل دکھوں کی خاک پر کی شب نشینی ماہ نےدن کبھی نکلا تو اک سورج سر مدفن جلا

تیرگی کی آندھیاں اٹھتی رہیں ہر نور سےاک چراغ ایسا ہے سینے میں کہ بے روغن جلا

رفتہ رفتہ ہو گئے دست طلب اہل جنوںراستوں پر سب لیے بیٹھے ہیں اک دامن جلا

گھٹ کے رہ سکتی تھی کب تک آتش رنگ بہارضرب موسم بھی کچھ ایسی تھی کہ سب گلشن جلا

جل گیا تو کیا ہوا آخر تو میں کندن ہواہم نشیں دامن کی کیا جب من جلا دامن جلا

— شہاب جعفری