7 اشعار

اس دھوپ سے کیا گلہ ہے مجھ کو

Is dhoop se kya gila hai mujh ko

اس دھوپ سے کیا گلہ ہے مجھ کوسائے نے جلا دیا ہے مجھ کو

میں نالہ سکوت سنگ کا ہوںصحرا نے بہت سنا ہے مجھ کو

میں لفظ کی طرح بے زباں تھامعنی نے ادا کیا ہے مجھ کو

ہر سچ کا نصیب سنگ ساریاور سچ ہی سے واسطہ ہے مجھ کو

خائف نہیں مرگ ناگہاں سےسینے کا وہ حوصلہ ہے مجھ کو

پتھر پہ مری صدا کا سایہآئینہ دکھا رہا ہے مجھ کو

آواز دے مجھ کو تیرگی میںآواز ہی نقش پا ہے مجھ کو

— شہاب جعفری