7 اشعار

دشت غربت ہے تو وہ کیوں ہیں خفا ہم سے بہت

Dasht-e-ghurbat hai to woh kyun hain khafa hum se bahut

دشت غربت ہے تو وہ کیوں ہیں خفا ہم سے بہتہم دکھی بیٹھے ہیں لگ چل نہ صبا ہم سے بہت

کیا ہے دامن میں بجز گرد مہ و سال امیدکیوں الجھتی ہے زمانے کی ہوا ہم سے بہت

اب ہم اظہار الم کرنے لگے ہیں سب سےاب اٹھائی نہیں جاتی ہے جفا ہم سے بہت

کون موسم ہے کہ پتھر سے لہو رستا ہےخوں بہا مانگے ہے اب دل کی صدا ہم سے بہت

داد شوریدہ سری پائے جو سر سے گزرےدور بھاگے ہے عبث موج بلا ہم سے بہت

کر تو دیں قصۂ دوراں میں ترے غم کا بیاںپر لہو مانگے ہے یہ فکر رسا ہم سے بہت

چڑھتے سورج کے پجاری وہی نکلے جو شہابؔکرتے تھے تذکرۂ صدق و صفا ہم سے بہت

— شہاب جعفری