13 اشعار

بے سر و ساماں کچھ اپنی طبع سے ہیں گھر میں ہم

Be-sar-o-samaan kuch apni tab' se hain ghar mein hum

بے سر و ساماں کچھ اپنی طبع سے ہیں گھر میں ہمشہر کہتے ہیں جسے ہیں اس کے پس منظر میں ہم

شام ڈوبی پڑ رہے سورج کے در پر شب کی شبصبح بکھری چل پڑے خود کو لیے ٹھوکر میں ہم

آگہی تو نے ہمیں کن وسعتوں میں گم کیابے نشاں ہر ملک میں بے آسرا ہر گھر میں ہم

اپنے ہی صحرا میں کھو جائیں گے اندازہ نہ تھابازگشت اپنی لیے پھرتے ہیں اپنے سر میں ہم

ساتویں در تک پکار آئی خودی کو بے خودیاور ہر در سے جواب آیا نہیں ہیں گھر میں ہم

تیری دستک تھی کہ سناٹا وہی ہر شام کارہرو کوہ ندا ہیں گھر کے بام و در میں ہم

چار سو صحرا میں ہے درد انا الصحرا کی گونجکاٹ کر اپنی زباں رکھ آئے تھے پتھر میں ہم

چھان یہ صحرا گھٹی ہیں اس کی چوحد میں صدائیںکاٹ یہ پربت دبے ہیں اس کی خاکستر میں ہم

اب ہمیں بھاتا نہیں پیہم صداؤں کا نزولاب تو خود گونجے ہوئے ہیں گنبد بے در میں ہم

کیاں مکاں تاکا ہے دل نے رات اور دن سے پرےبے زباں ہوتے چلے ہیں قید بام و در میں ہم

جانے اس رہرو کی نظریں کون سی منزل پہ ہوںایک کانٹا سا کھٹکتے ہیں دل رہبر میں ہم

زہر کا پیالہ ہو پینا یا اٹھانی ہو صلیبصدیوں بعد آئیں مگر ہوتے ہیں اس منظر میں ہم

دشت در دشت آسماں بر دوش چلتے ہیں شہابؔہم سے بنجارے جنم اپنا لیے ٹھوکر میں ہم

— شہاب جعفری