5 اشعار

لٹنے والو دل برباد کی توقیر نہ جائے

LuTne waalo dil barbaad ki tauqeer na jaaye

لٹنے والو دل برباد کی توقیر نہ جائےگھر چلا جائے مگر حسرت تعمیر نہ جائے

شہر نو قلعۂ دل کیسا کھنڈر ہے کہ جہاںکوئی سیاح نہ آئے کوئی رہ گیر نہ جائے

میں تو خود خوابوں کو تعبیر سے کر دوں محرومخواب ایسے ہیں کہ جن سے غم تعبیر نہ جائے

شہر سے قافلے لوٹے ہیں یہ کہتے سوئے دشتاس خرابے میں کوئی صاحب توقیر نہ جائے

جانے کس شعلے سے گوندھی گئی مٹی میریآندھیاں چلتی رہیں خاک کی تنویر نہ جائے

— شہاب جعفری