8 اشعار

یہ محشر سوز و ساز کیا ہے

Ye mahshar-e-soz-o-saz kya hai

یہ محشر سوز و ساز کیا ہےآخر مرا امتیاز کیا ہے

دل محو صدائے درد کیوں ہےیہ عرض ہنر گداز کیا ہے

مفہوم نوائے راز کیا تھاآواز شکست ساز کیا ہے

ڈرتا ہوں کہ اپنا غم نہ ہو جائےاپنے سے یہ احتراز کیا ہے

پا کر بھی تجھے میں سوچتا ہوںمٹنے کا مرے جواز کیا ہے

اب تو جو ملا تو میں نہیں ہوںمجھ سے ترا امتیاز کیا ہے

کس کس کو بھلا چکا ہوں اے غمیہ بے دلیٔ نیاز کیا ہے

اکثر تو ترا برا بھی چاہاکیا جانئے خود پہ ناز کیا ہے

— شہاب جعفری