6 اشعار

ہجر و وصال یار کا موسم نکل گیا

Hijr-o-visal-e-yaar ka mausam nikal gaya

ہجر و وصال یار کا موسم نکل گیااے درد عشق جاگ زمانہ بدل گیا

کب تک یہ روز حشر سن اے شام انتظارکیا رات اب نہ آئے گی سورج تو ڈھل گیا

اب کے کہاں سے آئے ہو ساون کے بادلودیکھو تو سارا باغ ہی برکھا سے جل گیا

جاؤں کہاں کہ تاب نہیں عرض نغمہ کیپانی میں آگ لگ گئی پتھر پگھل گیا

ساتوں سروں کے راگ سے جلتی ہے دل کی آگباد فنا میں بھی مرا شعلہ سنبھل گیا

اس کی صدا سے راگ نکالے شہابؔ نےاک شب لگی وہ آگ کہ نادان جل گیا

— شہاب جعفری