6 اشعار

گل نو کے ہاتھ سے دم بہ دم جو صبا نکلتی چلی گئی

Gul-e-nau ke haath se dam ba dam jo saba nikalti chali gayi

گل نو کے ہاتھ سے دم بہ دم جو صبا نکلتی چلی گئیتو چمن چمن تھی وہ تشنگی کہ بہار جلتی چلی گئی

میں مسافر رہ درد تھا ہر امید دست سوال تھییہ حیات موج سراب تھی مرے ساتھ چلتی چلی گئی

تری یاد گلشن خواب تھی کہ مری نواؤں کے دشت میںیہ بہار شمع خیال تھی سر شاخ جلتی چلی گئی

تری آرزو تو نہ تھی مگر تو کہاں ہے میرے نگار سنتری جستجو کے بغیر بھی رہ دل بدلتی چلی گئی

ترے گیسوؤں کی کہانیاں جو سنیں تو نیند سی آ چلیسفر حیات میں سخت تھی مری رات ڈھلتی چلی گئی

نظر آئی منزل آرزو تو ہر اک نشیب و فراز پریہ قدم بہکتے چلے گئے وہ نظر سنبھلتی چلی گئی

— شہاب جعفری