8 اشعار

مجھ کو تو پہلے کا سب سچ ناٹک جیسا لگتا ہے

Mujh ko to pehle ka sab sach naatak jaisa lagta hai

مجھ کو تو پہلے کا سب سچ ناٹک جیسا لگتا ہےتم کو اور کسی آغوش میں اکثر کیسا لگتا ہے

ہم کتنے سچے تھے سچ کی لاج میں جھوٹ بھی کہہ جاتےسچ کہنا اسی جھوٹ کی سوگند اب کیا سچا لگتا ہے

مدت بعد نگاہ ملی دو اکتارے جھنکار اٹھےدو سناٹے چپ چپ پوچھیں اب تو مرا کیا لگتا ہے

ہاتھ دھندلکوں سے مت لہرا بندھن کی پتوار سنبھالجنموں کے پاتال کے مانجھی گھاٹ تو ڈوبا لگتا ہے

باتیں بہت تھیں اتنے دنوں میں چیخ بنیں یا چپ کی چٹاناب جاؤ یہ سنسانا پھر چیخا چیخا لگتا ہے

تیرا برا چاہیں پھر رو دیں جی کو تو کیا تسکین ملےتم سکھ ہم دکھ بٹ گیا سب کچھ سب کچھ انوکھا لگتا ہے

کچھ سنسان سا شور سنا ہاں سپنے سب محفوظ ہیں ناہاتھ ان آنکھوں پر رہنے دو شور اب اچھا لگتا ہے

ہر انجان سے اپنا پا کون انجان اس کا اپنا تھاخود ہی شہابؔ سے مل دیکھو نا پگلایا سا لگتا ہے

— شہاب جعفری