7 اشعار

ہوس زلف گرہ گیر لیے بیٹھے ہیں

Hawas-e-zulf-e-girah-geer liye baiThe hain

ہوس زلف گرہ گیر لیے بیٹھے ہیںآیت شوق کی تفسیر لیے بیٹھے ہیں

آسماں ساتھ چلا گھر کی زمیں دور ہوئیتجھ سے دور اک رہ دلگیر لیے بیٹھے ہیں

وجہ تعزیر ہوئی بے وطنی بھی جب سےعنبریں ہاتھوں کی تحریر لیے بیٹھے ہیں

آپ سے آپ وہ کھلتی ہوئی زلفیں تیریاب اسی سوگ کی تصویر لیے بیٹھے ہیں

ہائے کیا عہد جوانی و محبت ہے کہ ہماک نہ اک مرنے کی تدبیر لیے بیٹھے ہیں

زندگی بے در و دیوار مکاں ہے کوئیکب سے اک حسرت تعمیر لیے بیٹھے ہیں

کوئی اپنوں ہی میں قاتل ہے تو ہم چپ سے شہابؔزخم کھائے ہوئے شمشیر لیے بیٹھے ہیں

— شہاب جعفری