12 اشعار

حیات میں بھی اجل کا سماں دکھائی دے

Hayat mein bhi ajal ka samaan dikhayi de

حیات میں بھی اجل کا سماں دکھائی دےوہی زمین وہی آسماں دکھائی دے

قدم زمیں سے جدا ہیں نظر مناظر سےغریب شہر کو شہر آسماں دکھائی دے

تمام شہر میں بے چہرگی کا عالم ہےجسے بھی دیکھیے گرد اور دھواں دکھائی دے

اک ایک شخص ہجوم رواں میں تنہا ہےاک ایک شخص ہجوم رواں دکھائی دے

کبھی سنو تو مکینوں کا گریۂ سحریلہولہان سا ایک اک مکاں دکھائی دے

مکیں ہوں میں کہ مسافر یہ دشت ہے کہ دیارقیام میں بھی سفر کا سماں دکھائی دے

درون دل ہو کہ بیرون دل سفر اپناکہیں لحد کہیں خالی مکاں دکھائی دے

وہ دھوپ ہے کہ سلگتا ہے سایہ پاؤں تلےخمیر خاک بھی آگ اور دھواں دکھائی دے

ہے جسم شعلہ ہی شعلہ تو جاں ہے پیاس ہی پیاساور اپنا سایہ سراب تپاں دکھائی دے

میں کس طرف کو بڑھوں آسمان ہے نہ زمیںمیں جس طرف بھی چلوں خوف جاں دکھائی دے

زمین ہے کہ فلک پاؤں کس جگہ ہیں ندیم!مجھے بتا، مجھے سب کچھ دھواں دکھائی دے

سب اپنے درد کے دوزخ میں جل رہے ہیں شہابؔمگر زمیں ہمیں جنت نشاں دکھائی دے

— شہاب جعفری